لالچ کا انجام: ایک سبق آموز کہانی جو آپ کی زندگی بد دے


سبق آموز کہانی: لالچ کا انجام


کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے خوش ہو کر ایک شخص کو انعام دینے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے کہا:

"تمہیں اختیار ہے کہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لو گے، وہ ساری زمین تمہاری ہوگی۔ لیکن اگر سورج غروب ہونے سے پہلے دائرہ مکمل نہ کر سکے تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا!"


یہ سن کر وہ شخص بے حد خوش ہوا اور فوراً دوڑ پڑا۔ اس کی آنکھوں میں وسیع زمین کا خواب چمک رہا تھا۔ وہ تیزی سے چلتا رہا، زمین پر نشان لگاتا رہا اور سوچتا رہا کہ جتنا آگے جا سکتا ہوں، جاؤں تاکہ زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کر سکوں۔


دوپہر کی اذان ہوئی تو اس کے دل میں خیال آیا کہ اب واپسی کا سفر شروع کرنا چاہیے، مگر پھر لالچ آڑے آ گئی۔ "تھوڑی سی اور زمین لے لوں، پھر پلٹوں گا!" اس نے خود کو تسلی دی اور آگے بڑھتا گیا۔


واپسی کا خیال بار بار آتا، مگر پھر سامنے ایک دلکش پہاڑ دکھائی دیا۔ "یہ پہاڑ بھی میری جاگیر میں ہونا چاہیے!" اس نے سوچا اور آگے بڑھ گیا۔ مگر یہ اضافی سفر اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔


اب سورج مغرب کی طرف جھکنے لگا تھا۔ اس نے واپسی کی راہ لی، لیکن اب لگتا تھا جیسے سورج بھی اس کے ساتھ مسابقت کر رہا ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا، سورج اتنی ہی تیزی سے ڈھلتا نظر آتا۔ جیسے جیسے عصر کا وقت ہوا، سورج مزید جھکنے لگا۔ وہ دوڑنے لگا، اس کے قدم لرزنے لگے، سانسیں پھولنے لگیں، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ مگر اسے اپنے لالچ کا انجام نظر آ رہا تھا۔


"کاش! میں وقت پر پلٹ جاتا، کاش! میں اتنا لالچی نہ ہوتا!" وہ حسرت بھری سوچوں میں دوڑتا گیا۔


آخری لمحہ آیا، سورج کی آخری کرنیں زمین کو الوداع کہہ رہی تھیں، اور وہ شخص بھی اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ سورج غروب ہوا، اور وہ زمین پر گر پڑا۔ اس کا سر اس جگہ پڑا جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا، اور اس کے پاؤں اس دائرے کو مکمل کر رہے تھے جسے وہ مکمل کرنے نکلا تھا۔


بادشاہ کے حکم پر اسی جگہ اس کی قبر بنا دی گئی، اور قبر کے کتبے پر لکھا گیا:

"اس شخص کی اصل ضرورت صرف اتنی زمین تھی جتنی اس کی قبر نے گھیر رکھی ہے!"


اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

"زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"


آج ہماری زندگیاں بھی ایسی ہی ہیں۔ ہم دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، خواہشات کے دائرے بناتے جا رہے ہیں، مگر اصل حقیقت یہی ہے کہ ہمیں آخر میں صرف چند گز زمین ہی ملے گی۔


کیا ہم واپسی کا راستہ اختیار کریں گے؟ کیا ہم اپنی آخرت کی تیاری کریں گے؟


اللہ ہمیں عقل عطا فرمائے اور خاتمہ بالخیر نصیب کرے۔ آمین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

روحانی سکون کی تلاش: ایک متاثر کن اسلامی کہانی جو دل کو چھو جائے

"بے ایمانی کا انجام: ایک سبق آموز کہانی جو آپ کی سوچ بدل دے گی"