"بے ایمانی کا انجام: ایک سبق آموز کہانی جو آپ کی سوچ بدل دے گی"
بے ایمان کون؟ ایک سبق آموز کہانی
ایک گاؤں میں ایک غریب کسان اپنی بیوی کے ساتھ سادہ زندگی بسر کر رہا تھا۔ ان کی روزی کا ذریعہ دودھ، مکھن اور دیگر دیہی پیداوار تھے، جو وہ شہر میں جا کر فروخت کرتا تھا۔ کسان کی بیوی بڑی محنت سے گائے کا دودھ دوہتی، اس سے مکھن تیار کرتی، اور کسان اسے بازار لے جا کر بیچ دیتا۔
ایمانداری کا امتحان
ایک دن کسان نے حسب معمول بیوی کے تیار کردہ مکھن کے گول پیڑے لیے اور شہر کے ایک دکان دار کے پاس جا پہنچا۔ وہ دکان دار ہر ہفتے کسان سے مکھن خریدتا تھا اور بدلے میں چائے، چینی، تیل اور صابن وغیرہ دے دیتا تھا۔
یہ مکھن کے پیڑے وزن میں ایک کلو ہونے چاہیے تھے، لیکن اس دن اچانک دکاندار کو خیال آیا کہ کیوں نہ وزن کر کے دیکھوں۔ جیسے ہی اس نے ایک پیڑے کو ترازو پر رکھا، وہ حیران رہ گیا— پیڑا 900 گرام کا نکلا!
اس نے فوراً باقی تمام پیڑے بھی تول ڈالے، اور سب کے سب 900 گرام کے نکلے۔ دکاندار کو شدید غصہ آیا۔ اس نے دل میں سوچا، "یہ کسان تو بڑا بے ایمان نکلا! ہر بار مجھ سے ایک کلو کا دام لیتا ہے، مگر دیتا صرف 900 گرام ہے!"
کسان پر دھوکہ دہی کا الزام
اگلے ہفتے جب کسان حسب معمول مکھن لے کر آیا، تو دکاندار نے اسے دکان کے دروازے پر ہی روک دیا اور غصے سے بولا:
"دفع ہو جاؤ یہاں سے! میں کسی بے ایمان اور دھوکہ باز شخص سے کاروبار نہیں کرتا۔ تم ایک کلو کے بجائے 900 گرام مکھن دیتے رہے، مجھے دھوکہ دیتے رہے! میں تمہاری شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا!"
حقیقت کیا تھی؟
کسان نے معصومیت سے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا:
"میرے بھائی، مجھ سے بدظن مت ہو، ہم تو غریب لوگ ہیں۔ ہمارے پاس ترازو کے لیے باٹ خریدنے کی استطاعت نہیں۔ میں ہمیشہ تم سے جو ایک کلو چینی خرید کر لے جاتا ہوں، اسی چینی کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ کر دوسرے پلڑے میں اتنے ہی وزن کا مکھن تول کر لاتا ہوں۔"
یہ سن کر دکاندار کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ اس نے فوراً شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا، کیونکہ بے ایمانی کسان کی نہیں، بلکہ خود اس کی نکلی تھی۔
سبق
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں خود کو بھی پرکھنا چاہیے۔ اگر ہم دوسروں سے دیانت داری کی توقع رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے ہمیں خود دیانت دار بننا ہوگا۔ کیونکہ جو پیمانہ ہم دوسروں کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہی ہمارے ل
یے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں