اللہ کا فیصلہ سب سے افضل! – ایک نصیحت آموز کہانی جو اپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔
اللہ کا فیصلہ سب سے افضل! – ایک نصیحت آموز کہانی
ایک بادشاہ کا انتقال ہوا، اور اس کے بڑے بیٹے نے فوراً تخت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے چھوٹے بھائی کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا، لہٰذا اس نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ شہزادہ تین قریبی دوستوں کے ساتھ سفر پر نکلا۔ ان میں سے ایک تاجر کا بیٹا تھا، دوسرا کسان کا، اور تیسرا ایک نہایت خوبصورت نوجوان تھا۔
راستے میں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ کسان کے بیٹے نے کہا، "محنت ہی سب کچھ ہے، جو محنت کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے!"
تاجر کے بیٹے نے اپنی دانائی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "عقل اور کاروباری تدبیر سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو شخص سمجھداری سے کام لیتا ہے، وہی ترقی کرتا ہے!"
خوبصورت نوجوان نے فخریہ انداز میں کہا، "خوبصورتی سب سے بڑی دولت ہے، لوگ حسین چہروں کو پسند کرتے ہیں اور کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے!"
شہزادہ خاموشی سے ان سب کی باتیں سنتا رہا، پھر مسکرا کر بولا، "تم سب کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن سب سے بڑی چیز اللہ کی رضا اور اس کا فیصلہ ہے۔ جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ صرف اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تقدیر سے زیادہ کسی چیز کی طاقت نہیں!"
حقیقت کی آزمائش
یہ قافلہ ایک اجنبی ملک میں داخل ہوا اور صحرا میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اب انہوں نے طے کیا کہ ہر شخص اپنی کہی ہوئی بات کو ثابت کرے گا۔
پہلا دن تھا، کسان کے بیٹے سے کہا گیا، "جاؤ، اپنی محنت سے آج کے کھانے کا بندوبست کرو!"
وہ جنگل میں گیا، لکڑیاں کاٹ کر شہر لے گیا اور دو درہم میں فروخت کر دیں۔ ایک درہم کا کھانا لیا، دوسرا بچا کر رکھا۔ سب نے اس کی محنت کی تعریف کی۔
دوسرے دن تاجر کے بیٹے کی باری تھی۔ وہ ساحل پر گیا، ایک کشتی میں بیٹھا اور سودے بازی کر کے سامان خرید لیا۔ جب وہ سامان واپس لے کر آیا تو اچھے منافع پر بیچ دیا۔ اس نے 1000 درہم کا فائدہ کمایا، بہترین کھانے کا اہتمام کیا، اور دوستوں کو خوش کر دیا۔ سب نے اس کی ذہانت کی داد دی۔
تیسرے دن خوبصورت نوجوان کی باری تھی۔ وہ نہا دھو کر، عمدہ لباس پہن کر ایک رئیس خاتون کے گھر کے قریب جا بیٹھا۔ خاتون نے کھڑکی سے جھانکا، حسین چہرے کو دیکھ کر اس کی مدد کرنا چاہی، اسے کھانے کے ساتھ کچھ رقم بھی دی۔ نوجوان خوشی خوشی واپس آیا اور سب کو کھانا کھلایا۔ سب نے کہا، "واقعی، حسن بھی ایک نعمت ہے!"
شہزادے کا امتحان – اللہ پر بھروسہ!
اب باری تھی شہزادے کی، سب دوست حیران تھے کہ وہ کیا کرے گا؟
شہزادہ خاموشی سے شہر میں داخل ہوا اور ایک سڑک کے کنارے جا بیٹھا۔ اسی وقت وہاں سے بادشاہ کا جنازہ گزر رہا تھا۔ وزراء، سپاہی اور عوام غمزدہ تھے۔ ایک سپاہی نے شہزادے کو سڑک پر بیٹھا دیکھ کر ڈانٹا، "بادشاہ کا جنازہ گزر رہا ہے اور تم یہاں بیٹھے ہو؟ شرم آنی چاہیے!"
شہزادہ خاموش رہا۔ دفنانے کے بعد جب وہی سپاہی واپس آیا اور شہزادے کو وہیں بیٹھا دیکھا، تو اسے مشکوک سمجھ کر گرفتار کر لیا۔
اللہ کی مدد – فیصلہ تقدیر کا!
اگلے دن وزراء نئے بادشاہ کے انتخاب کے لیے مشورہ کر رہے تھے۔ سب متفق تھے کہ بادشاہ کسی عام شخص کو نہیں، بلکہ شاہی خاندان سے ہونا چاہیے۔ مگر بادشاہ کا کوئی وارث نہ تھا۔
تبھی وہی سپاہی بولا، "میں نے ایک قیدی کو دیکھا ہے جو کسی شاہی خاندان کا فرد لگتا ہے!"
فوراً حکم دیا گیا کہ اسے پیش کیا جائے۔ جب شہزادے کو دربار میں لایا گیا اور اس سے دریافت کیا گیا، تو اس نے اپنا تعارف کرایا، "میں فلاں ملک کے بادشاہ کا بیٹا ہوں، اپنے بھائی کے خوف سے یہاں پناہ لینے آیا ہوں!"
وزراء نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اعلان کیا، "ہم نے اپنے نئے بادشاہ کو پا لیا ہے!"
سب نے شہزادے کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اسے ملک کا بادشاہ بنا دیا۔
حقیقت کھل گئی!
جب شہزادہ بادشاہ بن کر شاہی محل کی جانب بڑھا، تو پورا شہر "بادشاہ سلامت زندہ باد!" کے نعرے لگا رہا تھا۔
اس کے تینوں دوست حیرانی میں اسے دیکھ رہے تھے۔ کسان کا بیٹا، تاجر کا بیٹا، اور وہ خوبصورت نوجوان— سب نے شہزادے کو سلام کیا اور کہا، "واقعی، اللہ کا فیصلہ سب سے افضل ہے!"
بادشاہ نے مسکرا کر کہا، "اللہ نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ انسان محنت کرتا ہے، تدبیر کرتا ہے، حسن پر فخر کرتا ہے، مگر کامیابی صرف اللہ کی رضا سے ملتی ہے!"
اس نے تاجر کے بیٹے کو اپنا مشیر مقرر کیا، کسان کے بیٹے کو وزیر زراعت، اور خوبصورت نوجوان کو کچھ مال و دولت دے کر رخصت کر دیا، کیونکہ حسن کی حقیقت عارضی ہوتی ہے۔
نتیجہ:
"جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی ناکام نہیں کرتا! عقل، دولت اور حسن عارضی ہیں، مگر اللہ کی رضا اور اس کا فیصلہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے!"
"وَاللَّهُ غَالِ
بٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ" (اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے!)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں